15 نومبر 2020 - 19:44
اصحاب اخدود نے 20000 عیسائیوں کو زندہ جلایا / یہودی، ہالوکاسٹ کے خالق

کلام وحی اور سورۃ البروج سے استناد کے ساتھ ساتھ، عیسائی مؤرخین کے واضح اقوال موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں کے زندہ جلانے کا بڑا واقعہ تاریخ میں صرف ایک بار انجام کو پہنچا ہے؛ وہ یوں کہ (آج کے صہیونیوں) کے آباء و اجداد یہودیوں نے نجران کے مظلوم عیسائیوں کو آگ کی خندقوں میں گھیر کر جلا دیا تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کلام وحی اور سورۃ البروج سے استناد کے ساتھ ساتھ، عیسائی مؤرخین کے واضح اقوال موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں کے زندہ جلانے کا بڑا واقعہ تاریخ میں صرف ایک بار انجام کو پہنچا ہے؛ وہ یوں کہ (آج کے صہیونیوں) کے آباء و اجداد یہودیوں نے نجران کے مظلوم عیسائیوں کو آگ کی خندقوں میں گھیر کر جلا دیا تھا۔
اخبار کیہان کے چیف ایڈیٹر حسین شریعتمداری لکھتے ہیں:
میں نے شنبہ مورخہ 31 اکتوبر 2020 کو اپنی یادداشت (مختصر پیغام آفاقی اثرات) جو کہ فرانسیسی نوجوانوں کے نام امام خامنہ ای کے ٹویٹ پیغام کو مختص کی گئی تھی، کے آخر میں لکھا تھا: "ہالوکاسٹ کے جعلی افسانے کے سلسلے میں ایک اہم نکتہ اور بھی ہے جس پر وقت آنے پر روشنی ڈالیں گے"۔ اور یادداشت میں دیئے گئے اس وعدے کے بارے میں ہمارے قارئین نے کچھ سوالات اٹھائے تھے اور پوچھا تھا کہ یہ کونسا نکتہ ہے جو اس یادداشت میں بیان نہیں ہؤا ہے۔ موجودہ یادداشت کیہان کے قارئین کے اسی سوال کا جواب ہے:
ہم نے روز شنبہ والی یادداشت میں ناقابل انکار دستاویزات کی رو سے سے ہالوکاسٹ کے عنوان سے یہودیوں اور مغربی حکومتوں کے دعوے کے جعلی پن کو ثابت کر دیا تھا؛ اور اس یادداشت میں ہم چاہتے ہیں کہ ایک حقیقی ہالوکاسٹ پر سے پردہ اٹھائیں جو اس زمانے کے یہودیوں ـ یعنی آج کے صہیونی یہودیوں کے آباء و اجداد ـ کی درندگی کی علامت ہے۔ ایک ہولناک تاریخی مجرمانہ فعل ہے جو یہودیوں کی پیشانی پر ابد تک کلنک کا ٹیکہ بن کر رہے گا۔
1۔ سورۃ البروج کی آیات 4 سے 9 تک میں اصحاب اخدود کا تذکرہ آیا ہے:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
"وَالسَّمَاء ذَاتِ الْبُرُوجِ (1) وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ (2) وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ (3) قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ (4) النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ (5) إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ (6) وَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ (7) وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ (8)؛  
سہارا اللہ کے نام کا جو سب کو فیض پہنچانے والا بڑا مہربان ہے۔
قسم ہے قلعوں والے آسمان کی (1) اور قسم ہے اس دن کی جس کا وعدہ دیا گیا ہے (2) اور قسم ہے دیکھنے والے کی اور دیکھے جانے والے کی (3) ہلاک ہوجائیں (بھڑکتی آگ سے بھرپور) کھائیوں والے (4) جن میں آگ تھی بہت ایندھن والی (5) جب وہ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے (6) اور جو کچھ ایمان والوں کے ساتھ وہ کر رہے تھے اس کا تماشا دیکھ رہے تھے (7) اور ان سے اور کسی چیز کا بدلہ نہیں لے رہے تھے سوائے اس ایمان کے جو وہ اللہ پر لائے تھے جو عزت وغلبے والا اور ہر تعریف کا حقدار ہے (8)"۔

واقعہ کچھ یوں تھا کہ یمن کے "حِمیَری" سلسلۂ سلاطین کے آخری بادشاہ "ذونواس" نے دین یہود قبول کیا اور قوم حِمیَر بھی پیروی کرکے یہودی بن گئی۔ اس زمانے میں شمالی یمن کے علاقے نجران کے عوام بدستور عیسائی تھی۔ یہودی سرغنوں نے بادشاہ کو نجران جاکر وہاں کے عوام کو دین یہود کی دعوت دے۔ ذونواس یہودیوں کے بڑوں بوڑھوں کے ساتھ نجران پہنچ گیا اور عیسائیوں سے کہا کہ دین مسیح کو ترک کرکے دین یہود قبول کریں۔ نجرانی عوام نے ذونواس کی دعوت اور اصرار کو یکسر مسترد کردیا اور اعلان کیا کہ وہ کسی طرح بھی اپنے دین سے دستبردار نہیں ہونگے۔
ذونواس کے حکم پر بڑی بڑی خندقیں کھودی گئیں اور ان کو بھاری ایندھن سے بھر دیا گیا اور پھر اس کو آگ لگادی گئی۔ اور عیسائی عورتوں، مردوں اور بچوں کو - جو دین مسیح سے دستبردار نہیں ہورہے تھے - آگ میں پھینک دیا گیا اور یوں ذونواس اور یہودی زعماء نے ان عیسائیوں کو زندہ جلا دیا۔ جو باقی رہے ان کے سر قلم کروائے۔ مؤرخین کے مطابق، اس عظیم درندگی میں 20000 عیسائیوں کو آگ میں ڈال کر زندہ جلایا۔
2۔ جیسا کہ کہا گیا کلام وحی اور سورہ بروج کی ابتدائی آیات میں اس المناک واقعے کا تفصیلی تذکرہ آیا ہے اور اصحاب اخدود کو شدید عذاب کا مستحق قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ تذکرہ آیات کریمہ تک محدود نہیں ہے بلکہ بہت سے غیر مسلم مؤرخین - بشمول قبل از اسلام کے عیسائی ، خواہ سریانی خواہ حبشی، مؤرخین نے بھی اس کی طرف اشارے کیے ہیں؛ اور پھر ان مؤرخین میں سے کچھ لوگ اس درندگی اور مؤمن عیسائیوں کے خلاف اس "یہودی ہالوکاسٹ" کے عینی شاہدین بھی تھے اور انھوں نے اس کو تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ دیر جبلہ کے سربراہ (Abbot of Gabula) کے نام بیت ارشام کے بشپ شمعون (Shemʿun (Simon) of Beth Arsham) کا خط سب سے پرانی دستاویز ہے۔ خط لکھنے والے بشپ شمعون کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت سے 86 سال قبل سنہ 524ع‍ میں، روم کے سفیر امن کے طور پر حیرہ کے فرمانروا منذر سوئم کی طرف روانہ کیا گیا تھا۔
3۔ عیسائی مؤرخین نے موجودہ صہیونیوں کے خونی اور فکری آباء و اجداد کی اس ہولناک درندگی کی شرح و تفصیل بیان کرتے ہوئے اس نکتے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اس واقعے میں نجران کا ایک عیسائی فرار ہوکر قیصر روم کے دربار تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس شخص نے ذو نواس اور اس کے یہودی چیلوں کی طرف سے عیسائیوں پر روا رکھے جانے والے المناک ظلم کی شکایت قیصر تک پہنچائی اور اس سے مدد مانگی۔ قیصر نے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نجاشی کے نام ایک مراسلہ بھیجا اور اس کو ہدایت کی کہ ذونواس سے عیسائیوں کے خون کا بدلہ لے۔ بیت ارشام کے بشپ شمعون کے خط میں مذکور ہے کہ "نجاشی اس ہولناک خونخواری کی داستان سن کر غضبناک ہؤا اور ایک عظيم سپاہ یمن کی طرف بھیج دی۔
نجاشی کی سپاہ نے ذونواس کو بری طرح شکست دی اور اس کی فوج کی کثیر تعداد کو ہلاک کردیا اور سرزمین یمن پر نجاشی کا قبضہ ہؤا اور یوں یمن حبشہ کی ایک ریاست بن گئی۔
میں نے شنبہ مورخہ 31 اکتوبر 2020 کو اپنی یادداشت (مختصر پیغام آفاقی اثرات) - جو کہ فرانسیسی نوجوانوں کے نام امام خامنہ ای کے ٹویٹ پیغام کو مختص کی گئی تھی، -
ہم نے روز شنبہ والی یاددہاشت میں ناقابل انکار دستاویزات کی رو سے ثابت کردیا تھا کہ ہالوکاسٹ کے عنوان سے یہودیوں اور مغربی حکومتوں کا دعوی ایک جعلی افسانہ اور بہت بڑا جھوٹ ہے اور بالکل اسی بنا پر مغربی دنیا میں اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی تحقیق کو جرم سمجھا جاتا ہے؛ لیکن اس یادداشت میں ہم نے کلام وحی اور سورہ بروج کی آیات کریمہ کے ساتھ ساتھ عیسائی مؤرخین کے اقوال کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جن سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ ہالوکاسٹ (انسانوں کا زندہ جلانا) صرف ایک بار انجام پایا ہے اور اس ہالوکاسٹ کے کرتے دھرتے یہودی تھے اور ان کی درندگی کا شکار ہونے والے نجران کے مظلوم عیسائی مؤمنین تھے۔
اور بالآخر مسلمان لکھاریوں، فلم سازوں، بالخصوص متعہد اور باغیرت اور اقدار کے پابند سینماگروں اور اہل قلم سے توقع یہی ہے کہ اصحاب اخدود کے ہالوکاسٹ کو متعلقہ دستاویزات کے ساتھ سلوراسکرین پر لے آئیں اور ساتھ ہی دوسری عالمی جنگ کے دوران کے مبینہ جعلی ہالوکاسٹ کے صہیونی اور مغربی دعویداروں کے دعؤوں کو دستیاب اسناد اور دستاویزات کے ساتھ، طشت از بام کریں اور دنیا والوں کو بتائیں کہ یہ سب جھوٹ اور بےبنیاد افسانہ ہے اور اس کے ذریعے اقوام عالم کا استحصال کیا جارہا ہے اور گوکہ وہ کہتے ہیں کہ ہالوکاسٹ کا مجرم ہٹلر ہے مگر ہالوکاسٹ کا بدلہ فلسطین سمیت پوری اسلامی دنیا سے لے رہے ہیں۔ خداوند متعال سیریل فلم "اصحاب کہف" (مردان آنجُلُس) اور سیریل فلم "حضرت یوسف علیہ السلام" کے مرحوم ڈائریکٹر برادر فَرَجُ الله سَلَحشور - جو انبیاء اور اولیاء کے عشق میں سرمست تھے ـ کی روح مطہر کو انبیاء اور اولیاء کے ساتھ محشور فرمائے۔
سَلَحشُور مرحوم نے حضرت موسی علیہ السلام کی زندگانی کی تصویرکشی کا پکا ارادہ کرلیا تھا اور اصحاب اخدود کا تاریخی واقعہ بھی ان کی فلم سازی کے ایجنڈے میں شامل تھا۔
کل ہی کی خبر ہے کہ ایران کے مشہور فلم ساز ابراہیم حاتمی کیا نے حضرت موسی(ع) کی حیات کے بارے میں 50 قسطوں پر مشتمل سیریل فلم بنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے؛ اور ہمیں امید ہے کہ واقعۂ اصحاب اخدود کے یہودی ہالوکاسٹ کو بھی خاص طور پر اہمیت دی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حسین شریعتمداری
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110